اشاعتیں

کیا امام حسین کے بارے میں یہ روایت: نعم الرجل رکبت یا غلام، درست ہے؟

 کیا امام حسین کے بارے میں یہ روایت: نعم الرجل رکبت یا غلام، درست ہے؟   السلام علیکم ۔ نعم الرجل رکبت یا غلام والی حدیث، درست ہے یا نہیں؟ آپ ذرا وضاحت فرمادیں، امام حسین کے بارے میں جو حضرت عمر سے مروی ہے۔ المستفتی: (مفتی) غلام مرتضی مصباحی، ویراول، گجرات۔   بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ، یہ روایت مروی نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کے ہیں، مگر اس میں بھی ’’نعم الرجل‘‘ میں ’’الرجل‘‘  نہیں بلکہ ’’المرکب‘‘ ہے، یعنی اس میں: ’’نعم المرکب، رکبت یا غلام‘‘ ہے، نیز اس میں امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا نہیں بلکہ امیر المؤمنین امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر ہے۔ سنن الترمذی میں ہے: حدثنا محمد بن بشار قال: حدثنا أبو عامر العقدي قال: حدثنا زمعة بن صالح، عن سلمة بن وهرام، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم حامل الحسن بن علي على عاتقه فقال رجل: نعم المركب ركبت يا غلام، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ((ونعم ال...

کیا طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم میں مسلمۃ کا اضافہ درست ہے

  السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ، امید واثق ہے، مزاج ہمایوں بخیر ہوگا، ضروری نوشت ایں کہ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ، خاص کر مسلمۃ کا اضافہ کیا گیا ہے، اس کی حقیقیت کیا ہے، اگر کوئی مسلمۃ کو حدیث بتائے، کہاں تک درست ہے؟   المستفتی: (مولانا) شمس اللقاء فیضی، گونڈی، ممبئی۔   بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ، الحمد للہ تعالی بخیر ہوں، اللہ تعالی باسلامت و باکرامت رکھے۔ ناقدین نے بیان فرمایا ہے کہ اس حدیث کے طرق میں سے کسی بھی طریق میں لفظ ((مسلمة)) کا ذکر نہیں ہے۔ مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’لكن قال العراقي. قد صحح بعض الأئمة بعض طرقه، هذا وقد ألحق بعض المصنفين بآخر الحديث (ومسلمة) وليس لها ذكر في شيء من طرقه‘‘۔ (مرقاۃ المفاتیح، امام علی القاری، کتاب العلم، ج۱ص۳۰۱، رقم: ۲۱۸، ط: دار الفکر، بیروت) تذکرۃ الموضوعات میں ہے: ’’في المقاصد ((طلب العلم فريضة على كل مسلم‘‘۔ وقد ألحقه بعض المصنفين بآخر الحديث ((ومسلمة)) وليس لها ذكر في شيء من طرقه‘‘۔ (تذکرۃ الموضوعات، محمد طاہر فتنی، ص۱۷، ط: إدارۃ الطباعۃ المنیریۃ) مگر امام ملا علی قاری نے ذ...

ابو جہل کی مٹھی میں کنکریوں کے کلمہ پڑھنے کی کیا حقیقت ہے

  السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ابو جہل کی مٹھی میں بند کنکریوں کے کلمہ پڑھنے والے واقعہ کی کیا حقیقت ہے حضرت؟   المستفتی: محمد یونس مصباحی، باسنی، ناگور شریف، راجستھان۔   بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب مجھے کتب حدیث میں ابوجہل کی بند مٹھی میں کنکریوں کے کلمہ پڑھنے والا واقعہ، نہیں مل سکا، مگر چوں کہ اس واقعہ کا تعلق، فضائل سے ہے اور بعض معتمد علماے کرام نے اپنی کتابوں میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے؛ اس لیے ان پر اعتماد کرتے ہوئے، اس واقعہ کو بیان کیا جاسکتا ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ’’بلکہ بتصریح ائمہ فن کثرتِ طُرق سے جبر نقصان متصوّر اور عملِ علما وقبولِ قُدما، حدیث کے لئے قوی دیگر اور نہ سہی تو فضائلِ اعمال میں حدیث ضعیف بالاجماع مقبول، اور اس سے بھی گزرے تو بِلاشُبہہ یہ فعل اکابرِ دین سے مروی ومنقول اور سلف صالح میں حفظ صحتِ بصر وروشنائی چشم کے لئے مجرب اور معمول، ایسے محل پر بالفرض اگر کچھ نہ ہو؛تو اسی قدر سند کافی بلکہ اصلاً نقل بھی نہ ہو؛تو صرف تجربہ وافی کہ آخر اُس میں کسی حکم شرعی کا ازالہ نہیں، نہ کسی سنّتِ ثابتہ کا خلاف، اور نف...

حدیث ((شفاعتي لأھل الذنوب من أمتي)) کی کامل وضاحت کیا ہے

  حدیث: ((شفاعتي لأھل الذنوب من أمتي)) کی کامل وضاحت کیا ہے؟   سوال السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ حدیث: ابوبکر بن علی بغدادی حضرت ابودردا رءضی اللہ عنہ سے راوی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((شفاعتي لأھل الذنوب من أمتي)) میری شفاعت میرے گنہگار امتیوں کے لیے ہے، ابودرداء رضی اللہ عنہ نے عرض کی: و إن زنی و إن سرق، اگرچہ زانی ہو، اگرچہ چور ہو ((و إن زنی و إن سرق علی رغم أنف أبي درداء)) اگرچہ زانی ہو اگرچہ چور ہو برخلاف خواہش ابودردا کے (ایمان کامل، ص۸۰) عرض یہ ہے کہ حدیث شریف کی مفصل وضاحت فرمائیں اور اس جملہ کا کیا مطلب ہے کہ اگرچہ زانی ہو اگرچہ چور ہو، برخلاف خواہش ابودرداء کے؟ المستفتی: محمد رضا، مصطفی آباد، دہلی ۹۴۔   بسم اللہ الرحمن الرحیم          الجواب وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ          اس حدیث پاک میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب یہ بتایا کہ میری شفاعت پوری امت مسلمہ کو شامل ہے؛ تو اس پر حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا؛ کیوں کہ اس عام حکم میں گناہ...

خٰود کشی کرنے والے کے کفر کا حکم

  کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ جو شخص خود کشی کرلے تو کیا اس کی بخشش و مغفرت ہوگی کہ نہیں، کیا خود کشی کرنے والا شیطان ہوجاتا ہے، تو کیا اس کی روح محلہ و شہر کے لوگوں کو ڈراتا و بہکاتا ہے، ایسا عقیدہ رکھنا درست ہے کہ نہیں اور اس کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے کہ نہیں اور کیا خود کشی کرنے سے انسان کافر ہوجاتا ہے کہ نہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ المستفتی: محمد دانش 9598760096   بسم اللہ الرحمن الرحیم         الجواب خود کشی کرنا بہت بڑا گناہ ہے مگر خود کشی کرنے والا اپنے اس گناہ کی وجہ سے کافر نہیں ہوگا؛ اس لیے اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اپنے گناہ کی سزا پانے کے بعد ہی صحیح مگر ان شاء اللہ ایسے شخص کی بخشش ہوگی۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا﴾ (النساء:۴، آیت:۴۸) ترجمہ: ((بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچ...